ابنا: ایم کیو ایم کیدفاتر پر دھماکے اوراے این پی کے رہنما پر قاتلانہ حملے میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ موٹرسائیکل میں نصب بم کو اڑایا گیا تھا۔ گذشتہ واقعات میں موٹر سائیکل میں اب تک چالیس سے پچاس کلو کا دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارروائی کی وجہ سے اب بڑی تعداد میں بارود کے ذریعہ دھماکا کرنا دہشت گردوں کے لیئے مشکل ہوگیا ہے۔
جس کی وجہ سے وہ اب متبادل طریقے استعمال کررہے ہیں۔ اس صورتحال میں رینجرز اور پولیس کے لیئے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔ اور انٹیلی جینس کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے۔ جن کی بروقت کارروائی سے دہشت گردی کے منصوبے کو پکڑا جاسکتا ہے۔ کراچی میں رینجرز اور سی آئی ڈی نے حال ہی میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں ناکام بنائی ہیں۔
.......
/169